باڑی
معنی
١ - کانٹوں وغیرہ کا احاطہ جو باغ یا کھیت وغیرہ کے گرد ہو۔ "باڑی : احاطہ" ( ١٩٣٣ء، جامع اللغات، ٣٨٣:١ ) ٢ - درختوں کا جھنڈ، باغ؛ پائیں باغ۔ "اے ہماری امیدوں کی باڑی کو ہرا رکھنے والے - گاڑھے خاں کی باڑی کو ہرا رکھ۔" ( ١٩٢١ء، گاڑھے خاں کا دکھڑا، ٦ ) ٣ - تختہ، کیاری۔ "مندر کے پاس پھولوں کی ایک باڑی لگائ۔" ( ١٨٩٠ء، جوگ بششٹھ (ترجمہ)، ١٦٣:٢ ) ٤ - کھیتی، کھیت، (خصوصاً) سبزی ترکاری کا کھیت یا کھیتی۔ "نہ زمین تھی نہ گھر تھا نہ گھاٹ - نہ بیل نہ باڑی۔" ( ١٩٦١ء، برف کے پھول، ٩ ) ٥ - روئی کا کھیت۔ "بابت اجناس ضبطی کے فی بیگہہ پختہ بموجب جریب سرکاری باڑی - (تین روپے)، چری - (ایک روپیہ آٹھ آنے) سوائے خرچ فی روپیہ آدھ آنہ۔" ( ١٨٤٥ء، پٹواری کی کتاب، ٥ ) ٦ - "جائے سکونت، گھر، مکان، (خصوصاً) وہ مکان جس کے چاروں طرف بغیچہ ہو۔" جانے کے روز ہوئے گھر سے وہ نکلا ہو گا جانے کس باڑی میں رہتی ہے چہیتا اس کی ( ١٩٢٦ء، ہفت کشور، ٢٦٢ )
اشتقاق
سنسکرت میں اصل لفظ 'باٹی' ہے اس سے ماخوذ اردو زبان میں 'باڑی' مستعمل ہے۔ ہندی میں بھی باڑی ہی مستعمل ہے۔ ماخذ ایک ہی ہے۔ ١٥٠٣ء میں "نوسرہار" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کانٹوں وغیرہ کا احاطہ جو باغ یا کھیت وغیرہ کے گرد ہو۔ "باڑی : احاطہ" ( ١٩٣٣ء، جامع اللغات، ٣٨٣:١ ) ٢ - درختوں کا جھنڈ، باغ؛ پائیں باغ۔ "اے ہماری امیدوں کی باڑی کو ہرا رکھنے والے - گاڑھے خاں کی باڑی کو ہرا رکھ۔" ( ١٩٢١ء، گاڑھے خاں کا دکھڑا، ٦ ) ٣ - تختہ، کیاری۔ "مندر کے پاس پھولوں کی ایک باڑی لگائ۔" ( ١٨٩٠ء، جوگ بششٹھ (ترجمہ)، ١٦٣:٢ ) ٤ - کھیتی، کھیت، (خصوصاً) سبزی ترکاری کا کھیت یا کھیتی۔ "نہ زمین تھی نہ گھر تھا نہ گھاٹ - نہ بیل نہ باڑی۔" ( ١٩٦١ء، برف کے پھول، ٩ ) ٥ - روئی کا کھیت۔ "بابت اجناس ضبطی کے فی بیگہہ پختہ بموجب جریب سرکاری باڑی - (تین روپے)، چری - (ایک روپیہ آٹھ آنے) سوائے خرچ فی روپیہ آدھ آنہ۔" ( ١٨٤٥ء، پٹواری کی کتاب، ٥ ) ٦ - "جائے سکونت، گھر، مکان، (خصوصاً) وہ مکان جس کے چاروں طرف بغیچہ ہو۔" جانے کے روز ہوئے گھر سے وہ نکلا ہو گا جانے کس باڑی میں رہتی ہے چہیتا اس کی ( ١٩٢٦ء، ہفت کشور، ٢٦٢ )