بایاں

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - دایاں کی ضد، الٹا، چپ۔  بایاں وہ ایک ہاتھ، وہ لاکھوں سے کارزار تیغ دو دم چلائیں کہ روکیں عدو کے وار      ( ١٩١٢ء، شمیم، مرثیہ، ١٤ ) ١ - فوج کا بایاں حصہ، میسرہ، میمنہ کی ضد۔ "جس وقت دونوں لشکر صفیں باندھ کر میدان میں جمے تو آئین جنگ کے بموجب امرائے شاہی آگا پیچھا دایاں بایاں سنبھال کر کھڑے ہوئے۔"      ( ١٨٨٣ء، دربار اکبری، ١٨ ) ٢ - [ موسیقی ]  جوڑی کا وہ طبلہ جو بائیں ہاتھ پر رہتا ہے اور جس سے گمک پیدا کی جاتی ہے۔ "اس کے بعد بایاں مانگ کر اپنے ہاتھ سے بجانے لگے۔"      ( ١٩١٤ء، محل خانہ شاہی، ٧٩ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'وامک' ہے اردو میں اس سے ماخوذ 'بایاں' مستعمل ہے اور بطور اسم صفت اور گاہے بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٤٠ء میں "چمنستان" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - فوج کا بایاں حصہ، میسرہ، میمنہ کی ضد۔ "جس وقت دونوں لشکر صفیں باندھ کر میدان میں جمے تو آئین جنگ کے بموجب امرائے شاہی آگا پیچھا دایاں بایاں سنبھال کر کھڑے ہوئے۔"      ( ١٨٨٣ء، دربار اکبری، ١٨ ) ٢ - [ موسیقی ]  جوڑی کا وہ طبلہ جو بائیں ہاتھ پر رہتا ہے اور جس سے گمک پیدا کی جاتی ہے۔ "اس کے بعد بایاں مانگ کر اپنے ہاتھ سے بجانے لگے۔"      ( ١٩١٤ء، محل خانہ شاہی، ٧٩ )

اصل لفظ: وامک
جنس: مذکر