بتنگڑ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ذرا سی بات کا افسانہ، پھانس کا بانس، بال کا کمل۔ "آج تو اتنا ہی ذکر چھڑ کر بات آئی گئی ہوئی لیکن آگے اس کے بڑے بڑے بتنگڑے بنے۔"      ( ١٩١٠ء، راحت زمانی، ٢٢ )

اشتقاق

غالباً سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'بت' کے ساتھ سنسکرت زبان کا لاحقۂ تکبیر 'انگڑ' ملنے سے 'بتنگڑ' بنا۔ اردو میں بطور عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے سب سے پہلے ١٨٨٨ء کو "ابن الوقت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ذرا سی بات کا افسانہ، پھانس کا بانس، بال کا کمل۔ "آج تو اتنا ہی ذکر چھڑ کر بات آئی گئی ہوئی لیکن آگے اس کے بڑے بڑے بتنگڑے بنے۔"      ( ١٩١٠ء، راحت زمانی، ٢٢ )

جنس: مذکر