بتول

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - پاک، پاکیزہ، پاکدامن، پارسا (حضرت فاطمہ بنت حضرت محمد مصطفیٰ صلعم اور حضرت مریم کا لقب)۔  زہرا رضیہ خیرِ نسا فاطمہ بتول چشم و چراغ حق ہوئے جس کے چمن کے پھول     "دیواروں پر جا بجا مریم بتول اور اس عہد تقدیم کے دو ایک عیسائی ولیوں کی فرضی تصویریں تھیں۔"      ( ١٩١٢ء، شمیم، مرثیہ (ق)، ١٦ )( ١٨٩٨ء، ایام عرب،١، ٧٦ ) ٢ - کنواری، تارک الدنیا۔ (پلیٹس)

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد سے صیغۂ اسلم فاعل مشتق ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٦٨٩ء میں 'خاورنامہ' میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پاک، پاکیزہ، پاکدامن، پارسا (حضرت فاطمہ بنت حضرت محمد مصطفیٰ صلعم اور حضرت مریم کا لقب)۔  زہرا رضیہ خیرِ نسا فاطمہ بتول چشم و چراغ حق ہوئے جس کے چمن کے پھول     "دیواروں پر جا بجا مریم بتول اور اس عہد تقدیم کے دو ایک عیسائی ولیوں کی فرضی تصویریں تھیں۔"      ( ١٩١٢ء، شمیم، مرثیہ (ق)، ١٦ )( ١٨٩٨ء، ایام عرب،١، ٧٦ )

اصل لفظ: بتل
جنس: مؤنث