بجری

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - باجرے کے برابر سنگریزے جو عموماً راستے پر بچھائے جاتے ہیں، پتھر یا اینٹ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جو تعمیری مسالے میں ڈالے جاتے ہیں۔ "آدمی خاص کر ہندوستانی کوئی اینٹوں یا بجری یا پتھروں کا چھکڑا تو ہے نہیں۔"      ( ١٩٠٧ء، کرزن نامہ، ٣٢ ) ٢ - باریک اولے، بارش یا برف کی پھوار۔ "رات موسلا دھار بارش کے بعد بجری پڑی تھی اور پھر برف۔"      ( ١٩٦٢ء، آفت کا ٹکڑا، ٢٤٠ ) ٣ - لال کنکریلی مٹی جس سے سڑک کی پٹریاں بناتے ہیں اور کمہار برتن رنگتے ہیں۔ (ماخوذ : پلیٹس؛ نوراللغات، 570:1)

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'وجر' سے ماخوذ اردو زبان میں اسم صفت 'بجر' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ تصغیر لگنے سے 'بجری' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے سب سے پہلے ١٦٣٩ء میں 'ملک محمد جائسی' کے ہاں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - باجرے کے برابر سنگریزے جو عموماً راستے پر بچھائے جاتے ہیں، پتھر یا اینٹ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جو تعمیری مسالے میں ڈالے جاتے ہیں۔ "آدمی خاص کر ہندوستانی کوئی اینٹوں یا بجری یا پتھروں کا چھکڑا تو ہے نہیں۔"      ( ١٩٠٧ء، کرزن نامہ، ٣٢ ) ٢ - باریک اولے، بارش یا برف کی پھوار۔ "رات موسلا دھار بارش کے بعد بجری پڑی تھی اور پھر برف۔"      ( ١٩٦٢ء، آفت کا ٹکڑا، ٢٤٠ )

اصل لفظ: وجر
جنس: مؤنث