بجلی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وہ شعلہ نما چمکیلی لہر جو بادلوں کی رگڑ سے پیدا ہوتی ہے، برق، صاعقہ۔ "اس پر تم کو بجلی نے آ دبوچا۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٣٠:١ ) ٢ - وہ برقی رو جو مقررہ اصول سے پیدا کی جاتی ہے اور اس سے روشنی اور وہ قوت و توانائی حاصل ہوتی ہے جس سے مشینیں وغیرہ چلتی ہیں۔ "بجلی کی قوسی بھٹی میں سو فیصد سکریپ فولاد استعمال ہوتا ہے۔"      ( ١٩٧٣ء، فولاد سازی، ١١ ) ٣ - کان کی لو میں پہننے کا ایک زیور۔  نالوں سے پھٹے جاتے ہیں کیوں کانوں کے پردے بھاری نہ تو پتے ہیں نہ بجلی ہے نہ بالے      ( ١٩٣٤ء، ریاض رضوان، ٣٦٣ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'ودیت' سے ماخوذ اردو زبان میں 'بجلی' مستعمل ہے ہندی زبان میں بھی 'بجلی' مستعمل ہے اصل ماخذ ایک ہی ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٥٦٤ء میں 'حسن شوقی' کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ شعلہ نما چمکیلی لہر جو بادلوں کی رگڑ سے پیدا ہوتی ہے، برق، صاعقہ۔ "اس پر تم کو بجلی نے آ دبوچا۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٣٠:١ ) ٢ - وہ برقی رو جو مقررہ اصول سے پیدا کی جاتی ہے اور اس سے روشنی اور وہ قوت و توانائی حاصل ہوتی ہے جس سے مشینیں وغیرہ چلتی ہیں۔ "بجلی کی قوسی بھٹی میں سو فیصد سکریپ فولاد استعمال ہوتا ہے۔"      ( ١٩٧٣ء، فولاد سازی، ١١ )

اصل لفظ: ودیت
جنس: مؤنث