بجھا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - افسردہ، مکدر اور بے خواہش۔  یہ سب آہیں ہیں اے صیاد بلبل کے بجھے دِل کی ہواے سرد کے جھونکے جو آتے ہیں گلستان میں      ( ١٩٠٥ء، درشہوار، ٦١ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ مصدر 'بجھایا' کا صیغۂ ماضی مطلق ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے سب سے پہلے ١٨١٠ء کو "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: بُجھانا
جنس: مذکر