بجھارت

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - بوجھنے کے قابل بات، معما، پہیلی، استعارۃً۔  اک اسی ایک ٹھوکر سے کرے سوفلسفی پیدا نہ بوجھا فلسفہ اس کو یہ اک ایسی بجھارت تھی      ( ١٩١٤ء، بہارستان، ظفر علی خان، ١٣٤ ) ٢ - حساب فہمی، حساب کا تصفیہ۔ (نوراللغات) ٣ - زمین سے متعلق حساب کتاب کا رجسڑ۔ "پٹواری کے سمن میں ہدایت ہونی چاہیے کہ وہ . بجھارت و کھپوٹ اپنے ساتھ لاوے۔"      ( ١٨٧٣ء، ایکٹ، ١٩، ٩٤ )

اشتقاق

سنسکرت کے اصل لفظ 'بوجھنا' سے ماخوذ 'بجھارت' اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٧٣ء کو "ایکٹ ١٩" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - زمین سے متعلق حساب کتاب کا رجسڑ۔ "پٹواری کے سمن میں ہدایت ہونی چاہیے کہ وہ . بجھارت و کھپوٹ اپنے ساتھ لاوے۔"      ( ١٨٧٣ء، ایکٹ، ١٩، ٩٤ )

جنس: مؤنث