بحیرہ

قسم کلام: اسم تصغیر

معنی

١ - خلیج، جھیل، کھاڑی، دریا سے بڑا اور سمندر سے چھوٹا قطعۂ آب جو تقریباً چاروں طرف خشکی سے محدود ہو۔ "اکثر اوقات ہوا میں وہ بخارات بھرے ہوتے ہیں جو. نمکین بحیروں سے اٹھتے ہیں۔"      ( ١٩٠٧ء، ماہنامہ، مخزن، ١٣٠، ١٩:٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے ١٨٥٦ء کو "فوائد العبیان" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خلیج، جھیل، کھاڑی، دریا سے بڑا اور سمندر سے چھوٹا قطعۂ آب جو تقریباً چاروں طرف خشکی سے محدود ہو۔ "اکثر اوقات ہوا میں وہ بخارات بھرے ہوتے ہیں جو. نمکین بحیروں سے اٹھتے ہیں۔"      ( ١٩٠٧ء، ماہنامہ، مخزن، ١٣٠، ١٩:٤ )

اصل لفظ: بحر
جنس: مذکر