بخل

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کنجوسی، تنگ دلی، جائز ضروریات پر خرچ سے گریز۔ "اندیشہ ہے کہ مولوی احمد سعید صاحب کتاب عاریۃً نہ دیں گے یہ بخل ایک مدت سے مسلمانوں کے لاحق حال ہے۔"      ( ١٩٣٠ء، اقبال نامہ، ٣٨١:٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد سے مشتق ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے ارور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٣٨ء میں "بستان حکمت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کنجوسی، تنگ دلی، جائز ضروریات پر خرچ سے گریز۔ "اندیشہ ہے کہ مولوی احمد سعید صاحب کتاب عاریۃً نہ دیں گے یہ بخل ایک مدت سے مسلمانوں کے لاحق حال ہے۔"      ( ١٩٣٠ء، اقبال نامہ، ٣٨١:٢ )

اصل لفظ: بخل
جنس: مذکر