بخیر

قسم کلام: متعلق فعل

معنی

١ - اچھی طرح، بھلائی سے، خیریت و عافیت سے، بسلامتی۔  بشر کو عاقبت کار کا خیال رہے بخیر دیکھئے اپنا مآل ہو کہ نہ ہو    ( ١٨٧٢ء، عاشق، فیض نشان، ١٦٥ ) ٢ - نیکی کے ساتھ بھلائی کے ساتھ۔ "ہم نہ ترک دنیا کر سکتے ہیں نہ ترک عقبٰی، دونوں جہاں بخیر رہنا چاہئیں۔"    ( ١٩٤٩ء، نکتۂ راز، ٦٥ ) ٣ - ناممکن، دشوار، محال۔  ہوتا تھا اس کے ڈر سے غزالوں کا حال غیر الحق سپاہ شر اسے روکے تو یہ بخیر      ( ١٨٧٤ء، انیس، مراثی، ١٨٢:٢ ) ٤ - خدا خیریت سے رکھے۔  یاد ماضی بخیر کیوں اے موت اٹھ رہا ہے یہ شور ماتم کیا      ( ١٩٤٦ء، کلیات فانی، ٧٦ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'خیر' کے ساتھ فارسی حرف جار بطور سابقہ لگنے سے 'بخیر' مرکب بنا۔ اردو میں بطور متعلق فعل مستعمل ہے۔ ١٨٠٢ء میں "باغ و بہار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - نیکی کے ساتھ بھلائی کے ساتھ۔ "ہم نہ ترک دنیا کر سکتے ہیں نہ ترک عقبٰی، دونوں جہاں بخیر رہنا چاہئیں۔"    ( ١٩٤٩ء، نکتۂ راز، ٦٥ )