بخیلی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کنجوسی، خست، تنگدلی۔ "اس نے کاغذ کا ایک پرزہ بھیجا، دو حرفوں میں بھی بخیلی کی۔"      ( ١٩١٢ء، سی پارۂ دل، ٤٠:١ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ صفت 'بخیل' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے 'بخیلی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٤٢١ء کو "شکار نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کنجوسی، خست، تنگدلی۔ "اس نے کاغذ کا ایک پرزہ بھیجا، دو حرفوں میں بھی بخیلی کی۔"      ( ١٩١٢ء، سی پارۂ دل، ٤٠:١ )

اصل لفظ: بخل
جنس: مؤنث