بخیہ
معنی
١ - سلائی، مقرر طریقے سے دوہرا اور چھوٹا ٹانکا۔ "بخیہ بھی ترپائی کی طرح گھٹنوں پر رکھ کر ہوتا ہے۔" ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٦٣ ) ٢ - جمع پونجی، بساط۔ "رسی جل گئی مگر بل نہ گیا اب تو کس بخیہ پر کودتا ہے۔" ( ١٩٠٨ء، آفتاب شجاعت، ١٦٣:٥ ) ٣ - جمعیت، اجتماعی حیثیت۔ "رفتہ رفتہ ایک قوم کا بخیہ شیرازہ اکھڑ کر قوم برباد ہو جائے گی۔" ( ١٩٠٨ء، اساس الاخلاق، ٢١٧ )
اشتقاق
اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور اصل معنی میں ہی مستعمل ہے۔ ١٨٤٥ء میں 'کلیات ظفر' میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - سلائی، مقرر طریقے سے دوہرا اور چھوٹا ٹانکا۔ "بخیہ بھی ترپائی کی طرح گھٹنوں پر رکھ کر ہوتا ہے۔" ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٦٣ ) ٢ - جمع پونجی، بساط۔ "رسی جل گئی مگر بل نہ گیا اب تو کس بخیہ پر کودتا ہے۔" ( ١٩٠٨ء، آفتاب شجاعت، ١٦٣:٥ ) ٣ - جمعیت، اجتماعی حیثیت۔ "رفتہ رفتہ ایک قوم کا بخیہ شیرازہ اکھڑ کر قوم برباد ہو جائے گی۔" ( ١٩٠٨ء، اساس الاخلاق، ٢١٧ )