بد
معنی
١ - برا، خراب، اچھا کا نقیض۔ "زوجۂ منکوحہ کو اس کے فعل بد کا مزہ چکھائیے" ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٣٦ ) ٢ - شریر، برے چال چلن کا، فسادی، دنگئی، متفنی۔ "ہر مہینے انھیں ایک بد جن دکھائی دیتا تھا۔" ( ١٩٦٥ء، شاخ زریں، ٢٩٥:١ ) ٣ - [ مجازا ] منحرف، دل میں برائی لیے ہوئے، مکدر ('سے' کے ساتھ مستعمل) بد ہیں یہ اسلاف سے کد ہے انھیں اخلاف سے وضع کا آئین نظروں میں نہ قدروں کا بھوم ( ١٩٧٧ء، قصیدۂ انجم، ٣ ) ٤ - ناقص، نکما۔ (فرہنگ آصفیہ، 374:1)
اشتقاق
اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی مستعمل ہے۔ ١٦٣٥ء میں "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - برا، خراب، اچھا کا نقیض۔ "زوجۂ منکوحہ کو اس کے فعل بد کا مزہ چکھائیے" ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٣٦ ) ٢ - شریر، برے چال چلن کا، فسادی، دنگئی، متفنی۔ "ہر مہینے انھیں ایک بد جن دکھائی دیتا تھا۔" ( ١٩٦٥ء، شاخ زریں، ٢٩٥:١ )