بدبو

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بدبودار، متعفن۔ "روزانہ پائتا بے نہ بدلیں تو بدبو ہو جاتے ہیں۔"      ( ١٨٩١ء، مبادی علم حفظ صحت، ٢٨٢ ) ١ - خراب بو، دماغ پریشان کرنے والی باس۔  بدبو سے ہوا کو ہے بساتا کیچڑ میں غلیظ پھدپھداتا      ( ١٩٦٦ء، اثر لکھنوی، عروس فطرت، ٣٣ )

اشتقاق

فارسی زبان میں صفت 'بد' اور موصوف 'بو' کے ملنے سے مرکب توصیفی 'بدبو' بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم اور گاہے بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٥٠٠ء میں "معراج العاشقین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بدبودار، متعفن۔ "روزانہ پائتا بے نہ بدلیں تو بدبو ہو جاتے ہیں۔"      ( ١٨٩١ء، مبادی علم حفظ صحت، ٢٨٢ )

جنس: مؤنث