بدتمیز
قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )
معنی
١ - بے سلیقہ، پھوہڑ، گستاخ۔ "ان لوگوں کو بلوانے سے پہلے اس بات کا لحاظ ضرور رکھنا چاہیے کہ وہ بدچلن اور بدتمیز نہ ہوں۔" ( ١٩١٦ء، معاشرت، ٤٣ )
اشتقاق
فارسی اسم صفت 'بد' اور عربی اسم 'تمیز' سے مل کر مرکب توصیفی 'بدتمیز' بنا۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٩١٦ء، میں 'معاشرت' میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بے سلیقہ، پھوہڑ، گستاخ۔ "ان لوگوں کو بلوانے سے پہلے اس بات کا لحاظ ضرور رکھنا چاہیے کہ وہ بدچلن اور بدتمیز نہ ہوں۔" ( ١٩١٦ء، معاشرت، ٤٣ )