بذلہ
قسم کلام: اسم نکرہ
معنی
١ - لطیفہ، چٹکلا، ظریفانہ فقرہ۔ "ہماری تنقید نے کیا تو یہ کیا کہ سعدی کا بذلہ طاق نسیاں میں رکھا۔" ( ١٩٥٨ء، اردو ادب میں طنز و مزاح، ١٩ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨١٠ء، کو "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - لطیفہ، چٹکلا، ظریفانہ فقرہ۔ "ہماری تنقید نے کیا تو یہ کیا کہ سعدی کا بذلہ طاق نسیاں میں رکھا۔" ( ١٩٥٨ء، اردو ادب میں طنز و مزاح، ١٩ )
اصل لفظ: بذل
جنس: مذکر