بر
معنی
١ - پر۔ حافظ شیراز کا کیا پوچھنا، تھے خوش بیاں ان کا یہ مطلع ہے اب تک انجمن میں برزباں ( ١٩٢١ء، اکبر، کلیات، ٤١٤:٣ ) ٢ - میں، اندر۔ 'اس ملاقات کا نتیجہ نقش برآب اور گرہ بر باد تھا۔" ( ١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ١٠٠:٥ ) ٤ - سے، جیسے کسی التماس و التجا وغیرہ کے جواب میں، برچشم۔ کہنے لگا اک دن وہ سیہ مست یہ مجھ سے بیٹھوں میں تیرے برمیں کہا میں نے کہ برچشم ( ١٧٧٤ء، عبرت (طبقات الشعراء، ٣٥١) ) ٥ - بالمقابل۔ ان کے بر رو نہ یہ تقریر نہ یہ بات رہے چاہتے ہو مگر ایسوں سے ملاقات رہے ( ١٨٣٦ء، بحر (شعلۂ جوالہ، ٢٩٩:١) )
اشتقاق
اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اور بطور 'حرف ربط' مستعمل ہے عام طور پر ترکیبات میں بطور سابقہ مستعمل ہے، جیسے : برافروختہ، برآمد، برحق برآور وغیرہ۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور مندرجہ ذیل معنی میں مستعمل ہے۔ ١٧٧٥ء میں "نوطرز مرصع" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - میں، اندر۔ 'اس ملاقات کا نتیجہ نقش برآب اور گرہ بر باد تھا۔" ( ١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ١٠٠:٥ )