برآمد

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - باہر بھیجا جانے والا (سامان)۔  کھنچتے تھے روپئے مال در آمد سے فراواں تھا برآمد سے کوئی نفع نہ چنداں      ( ١٩٢٣ء، فروغ ہستی، ٦٢ ) ١ - [ تجارت ] نکاسی، روانگی، (علاقۂ غیر کو مقامی پیداوار یا سامان کی)۔ "لاگتوں کے زیادہ ہونے سے برآمد کم ہو جائے گی۔"    ( ١٩٤٠ء، آدمی اور مشین، ١٨٤ ) ٢ - باہر بھیجی جانے والی اشیا۔ "انگلستان کا نفع اس میں زیادہ تھا کہ نہ محصول درآمد ہو نہ محصول برآمد۔"    ( ١٩١٧ء، گوکھلے کی تقریریں، ٥٩ ) ٤ - [ پوشیدگی سے ]  ظہور، خروج، طلوع، مخفی شے کے منظر عام پر آنے کا عمل۔ "بندہ آفتاب عالمتاب کا نقیب ہے اور اس خسرو گردوں سر پر کی برآمد کی خبر دیتا ہے۔"      ( ١٨٤٥ء، جوہراخلاق، ١٦ ) ٥ - اصلی، بغیر بناوٹ کے۔ "یہ میری برآمد قلم ہے، بنا کر نہیں لکھا۔"      ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٥٩٦:١ ) ٦ - وہ زمین جو دریا کے ہٹ جانے سے نکلے۔ (فرہنگ آصفیہ، 382:1) ٧ - نمائش، ظاہر داری۔  رات کو کب مجھے وہ سرو قد سمجھا عجز کو طنز خوشامد کو برآمد سمجھا      ( ١٨٦٧ء، دیوان رشک، ٢١ ) ٩ - کسی مطلب کے پورا ہونے کا عمل، تکمیل، حصول۔  اہل جاگیر اور منصب دار ان کا ہونے لگا برآمد کار      ( شاہ ندا (ماہنامہ، اردو ادب، ١٢١:١) )

اشتقاق

فارسی سے ماخوذ اسم صفت 'بر ' کے بعد فارسی مصدر 'آمدن' کا حاصل مصدر 'آمد' ملنے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٣٢ء کو "کربل کتھا" میں مستعل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ تجارت ] نکاسی، روانگی، (علاقۂ غیر کو مقامی پیداوار یا سامان کی)۔ "لاگتوں کے زیادہ ہونے سے برآمد کم ہو جائے گی۔"    ( ١٩٤٠ء، آدمی اور مشین، ١٨٤ ) ٢ - باہر بھیجی جانے والی اشیا۔ "انگلستان کا نفع اس میں زیادہ تھا کہ نہ محصول درآمد ہو نہ محصول برآمد۔"    ( ١٩١٧ء، گوکھلے کی تقریریں، ٥٩ ) ٤ - [ پوشیدگی سے ]  ظہور، خروج، طلوع، مخفی شے کے منظر عام پر آنے کا عمل۔ "بندہ آفتاب عالمتاب کا نقیب ہے اور اس خسرو گردوں سر پر کی برآمد کی خبر دیتا ہے۔"      ( ١٨٤٥ء، جوہراخلاق، ١٦ ) ٥ - اصلی، بغیر بناوٹ کے۔ "یہ میری برآمد قلم ہے، بنا کر نہیں لکھا۔"      ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٥٩٦:١ )