برا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - نقصان، ضرر  آدمیت کی شرط ہے اے داغ خوب اپنا برا بھلا سمجھے      ( ١٨٩٢ء، مہتاب داغ، داغ، ٢٠٦ ) ٢ - ملامت یا مذمت کی بات۔ "کوئی بھلا کہو، کوئی برا کہو اپنے کوں کس کا کہنا اثر نہ ہوے"      ( ١٦٣٥ء، سب رس، ٤٥ ) ٤ - بداخلاقی۔ انکار کی عادت کو سمجھتا ہوں برا میں سچ یہ ہے کہ دل توڑنا اچھا نہیں ہوتا      ( ١٩٢٤ء، بانگِ درا، ١٤ ) ١ - ناپسندیدہ، نازیبا۔  واری اگر حسن نے رلایا برا کیا پوچھوں گی کیا نہ میں مرے پیارے نے کیا کیا      ( ١٨٧٥ء، مراثی، انیس، ٥:١ ) ٢ - ناگوار، جس سے دل و دماغ کو اذیت ہو۔  کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا      ( ١٨٦٩ء، دیوان، غالب، ١٦٠ ) ٣ - بدخلق، ناشائستہ، غیر مہذب۔نوراللغات، 600:1 ٥ - سزاوار ملامت۔  ذبح کیجیے نہ مجھے میں تو یونہی مرتا ہوں آپ کیوں لے کے یہ الزام برے ہوتے ہیں      ( گلزارِ داغ، ١٣٤ ) ٦ - ظالم، سنگدل، بے رحم۔نوراللغات، 600:1 ٧ - وحشت ناک، جس سے گھبراہٹ ہوتی ہو۔  کہے عاقل نہ بد ہرگز کسی کو گرچہ بد بھی ہو برا بھی خواب گر اس سے کہیں تعبیر اچھی دے      ( ١٨٥٤ء، کلیات، ظفر، ١٥٤:٣ ) ٨ - بے وفا، خود غرض، اپنے مطلب کا۔ "عورتیں آپس میں بیٹھ کر مردوں ہی کو برا ٹھہراتی ہیں"۔      ( مجالس النساء، ٥٠:١ ) ٩ - بے شرم، بے حیا1924ء، نوراللغات، 600:1 ١٠ - بھونڈا، بدشکل، بھدا، بے ہنگم۔ "کیا بری صورت ہے"     "کیا برا نقشہ ہے"      ( ١٨٨٦ء، مخزن المحاورات، ١٠٢ )( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٦٠٠:١ ) ١١ - ایسے کام کرنے والا جنھیں لوگ اچھا نہ سمجھیں۔ عامیانہ یا ناروا افعال کا مرتکب۔  یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیں دو چار قدم ہم بھی ترے ساتھ چلے ہیں      برا ہوں کی میں کج نہ مانوں برا برے ہوا بھلے کا ہے توں آسرا      ( ادا جعفری )( ١٦٣٩ء، طوطی نامہ، غواصی، ٢ ) ١٢ - بدنصیب، کم بخت۔1924ء، نوراللغات، 600:1 ١٣ - [ معیوب ]  برے کام کا، بد فعلی کا۔ "رات کو جب قضائے حاجت کے لیے عورتیں گھروں سے نکلتی تھیں تو یہ بدمعاش ان سے برا ارادہ کرتے تھے"۔      ( ١٩١٤ء، مقالات، شبلی، ١١٦:١ ) ١٤ - مکدر، کشیدہ خاطر، خفا، ناراض ('سے' کے ساتھ مستعمل)  یاں تک برا ہے مجھ سے یہ کہتا ہے وقت سیر سب ہوں پر ایک یہ کہ نہ بیدار ساتھ ہو      ( ١٧٩٤ء، دیوان، بیدار، ٧٩ ) ١٥ - دشمن، بدخواہ۔ (بیشتر مغیرہ حالت میں) "برے کی جان کی قسم ہرگز کسی کو حق نہیں کہ ہمیں جھوٹا کہے"۔      ( ١٩٢٥ء، اودھ پنچ لکھنو،١٠، ١٠:١٣ ) ١٦ - کمینہ، سفلہ۔ برے تجھ سے ڈرے یا تیری برائی سے      ( کہاوت ) ١٧ - سخت گیر، نامنصف، انیائی۔ "برا حاکم بری قسمت"      ( ١٨٨٦ء، مخزن المحاورات، ١٠٢ ) ١٨ - چڑچڑا، زود رنج۔ "حاکم کا بڑا چڑچڑا مزاج ہے بات بات پر لڑنے لگتا ہے"      ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٦٠٠:١ ) ١٩ - گناہ کا، (اللہ کی) نافرمانی کا، ناجائز۔  اعمال نسیم اپنے برے ہیں کہ بھلے ہیں لیکن ہے بھروسا ہمیں محبوب خدا کا      ( ١٨٦٥ء، دیوان، نسیم دہلوی، ٤٣ ) ٢٠ - نقصان، رساں، ضرر پہنچانے والا۔ "انسان کے دل کو بھلے برے کی تمیز کا احساس بخشا ہے"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق والفرائض، ١١،١ ) ٢١ - بدمزہ، اصلی بوباس سے اترا ہوا۔ "اصغری نے کہا ہائے کیا برا دہی ہے یہ تو ہرگز کھانوں میں نہ ڈالوں گی"      ( ١٨٦٨ء، مراۃ العروس، ١٢٣ ) ٢٢ - کند، غبی، گٹھل۔ "کیا برا ذہن ہے"      ( ١٨٨٦ء، مخزن المحاورات، ١٠٣ ) ٢٣ - شریر، بدمعاش، بدچلن، آوارہ "مبتلا مدرسے کے برے لڑکوں کی صحبت میں بانکا چھیلا بنا، طرح دار بنا"      ( ١٨٨٥ء، فسانہ مبتلا، ٢٦ ) ٢٤ - معیوب۔  الفت میں بدگمان رہے یہ برا نہیں لیکن کسی کو میری طرح درد سر نہ ہو      ( شمشاد (مہذب اللغات، ٢٦٥:٢) ) ٢٥ - نکما، بے کار، فضول۔  نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں برا نہیں کوئی قدرت کے کارخانے میں      ( ١٩٢٤ء، بانگ درا، علامہ اقبال، ١٦ ) ٢٦ - زہریلا، قاتل، موذی، آزار رساں "یہ تو برا کیڑا ہے"۔      ( ١٨٨٦ء، مخزن المحاورات، ١٠٢ ) ٢٧ - بدسلوکی کرنے والا، سختی سے پیش آنے والا (عموماً 'سے' کے ساتھ)  اس پر بھی نہ مانی جو سیاہ ستم ایجاد پھر مجھ سے برا کوئ نہ ہو گا یہ رہے یاد      ( ١٩١٢ء، مرثیہ، شمیم، ١٢ ) ٢٨ - نافرمان، اطاعت نہ کرنے والا۔ "برے بھلے سب اس کے یہاں سے روزی پاتے ہیں"      ( ١٨٧٧ء، توبتہ النصوح، ١١١ ) ٢٩ - منحوس، نامبارک۔ "آج مت جاؤ آج برا دن ہے"      ( ١٨٨٦ء، مخزن المحاورات، ١٠٢ ) ٣٠ - ناقص، جس میں میل ہو، گھٹیا، کھوٹا "چراغ میں کیسا ہی برا بھلا، کڑوا یا ارنڈی و کھوپرے کا تیل جلے"۔      ( ١٩٠٥ء، عصر جاوید، ٢١٢ ) ٣١ - تنقیص کا، تحقیر کا "ایشیا کی شاعری کے متعلق کسی قدر برے پہلو لیے ہوئے اظہار خیال ہو رہا تھا"۔      ( ١٩٣٢ء، نثر ریاض، ریاض خیر آبادی، ٧٠ ) ٣٢ - جس کی طرف سے طبیعت میں کھنچاؤ سا تکدر پیدا ہو جائے یا میل آ جائے، نامطبوع۔ "آپ انہیں بلاتے تھے، بٹھاتے تھے، میں ان سے کیوں برا ہوتا"۔      ( ١٩٠٠ء، شریف زادہ، ١٥٢ ) ٣٣ - رسوا، بدنام۔  معشوق زمانے میں کیا کام نہیں کرتے یہ کام تھمارا ہے اچھوں کو برا کرنا      ( ١٩٠٥ء، یادگار داغ، ١٢٩ ) ٣٤ - لالچی، طامع، لوبھی۔ ١٨٦ء، مخزن المحاورات، ١٠٢:٢ ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٦٠:١ ١ - بے موقع، بے ڈھب  دل مرا دے گا خبر میری تجھے ڈرتا ہوں تیرے گھر میں یہ برا پہنچا ہے غماز نیا      ( ١٨٧٧ء، دستنبوئے خاقانی، خاقانی، ٢٤ ) ٢ - بلا وجہ۔  جان اگر جاتی تو اچھا تھا کہیں جاتی بھی جان مجھ کو رونا ہے دل کا دل برا مارا گیا      ( ١٨٧٧ء، شعاع مہر، ٢٤ ) ٣ - بری طرح، ہاتھ دھو کر۔ "یہ شخص ہمارے دین آبائی کے برا پیچھے پڑا ہے"۔      ( ١٩٠٧ء، امہات الامہ، ١٩ )

اشتقاق

ہندی زبان سے اردو میں داخل ہوا اور "مقالات شیرانی" میں "قصیدہ در لغات ہندی" از حکیم یوسفی کے حوالے سے موجود ہے جوکہ ١٥٣٧ء کی تصنیف ہے۔

مثالیں

٢ - ملامت یا مذمت کی بات۔ "کوئی بھلا کہو، کوئی برا کہو اپنے کوں کس کا کہنا اثر نہ ہوے"      ( ١٦٣٥ء، سب رس، ٤٥ ) ٨ - بے وفا، خود غرض، اپنے مطلب کا۔ "عورتیں آپس میں بیٹھ کر مردوں ہی کو برا ٹھہراتی ہیں"۔      ( مجالس النساء، ٥٠:١ ) ١٠ - بھونڈا، بدشکل، بھدا، بے ہنگم۔ "کیا بری صورت ہے"     "کیا برا نقشہ ہے"      ( ١٨٨٦ء، مخزن المحاورات، ١٠٢ )( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٦٠٠:١ ) ١٣ - [ معیوب ]  برے کام کا، بد فعلی کا۔ "رات کو جب قضائے حاجت کے لیے عورتیں گھروں سے نکلتی تھیں تو یہ بدمعاش ان سے برا ارادہ کرتے تھے"۔      ( ١٩١٤ء، مقالات، شبلی، ١١٦:١ ) ١٥ - دشمن، بدخواہ۔ (بیشتر مغیرہ حالت میں) "برے کی جان کی قسم ہرگز کسی کو حق نہیں کہ ہمیں جھوٹا کہے"۔      ( ١٩٢٥ء، اودھ پنچ لکھنو،١٠، ١٠:١٣ ) ١٧ - سخت گیر، نامنصف، انیائی۔ "برا حاکم بری قسمت"      ( ١٨٨٦ء، مخزن المحاورات، ١٠٢ ) ١٨ - چڑچڑا، زود رنج۔ "حاکم کا بڑا چڑچڑا مزاج ہے بات بات پر لڑنے لگتا ہے"      ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٦٠٠:١ ) ٢٠ - نقصان، رساں، ضرر پہنچانے والا۔ "انسان کے دل کو بھلے برے کی تمیز کا احساس بخشا ہے"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق والفرائض، ١١،١ ) ٢١ - بدمزہ، اصلی بوباس سے اترا ہوا۔ "اصغری نے کہا ہائے کیا برا دہی ہے یہ تو ہرگز کھانوں میں نہ ڈالوں گی"      ( ١٨٦٨ء، مراۃ العروس، ١٢٣ ) ٢٢ - کند، غبی، گٹھل۔ "کیا برا ذہن ہے"      ( ١٨٨٦ء، مخزن المحاورات، ١٠٣ ) ٢٣ - شریر، بدمعاش، بدچلن، آوارہ "مبتلا مدرسے کے برے لڑکوں کی صحبت میں بانکا چھیلا بنا، طرح دار بنا"      ( ١٨٨٥ء، فسانہ مبتلا، ٢٦ ) ٢٦ - زہریلا، قاتل، موذی، آزار رساں "یہ تو برا کیڑا ہے"۔      ( ١٨٨٦ء، مخزن المحاورات، ١٠٢ ) ٢٨ - نافرمان، اطاعت نہ کرنے والا۔ "برے بھلے سب اس کے یہاں سے روزی پاتے ہیں"      ( ١٨٧٧ء، توبتہ النصوح، ١١١ ) ٢٩ - منحوس، نامبارک۔ "آج مت جاؤ آج برا دن ہے"      ( ١٨٨٦ء، مخزن المحاورات، ١٠٢ ) ٣٠ - ناقص، جس میں میل ہو، گھٹیا، کھوٹا "چراغ میں کیسا ہی برا بھلا، کڑوا یا ارنڈی و کھوپرے کا تیل جلے"۔      ( ١٩٠٥ء، عصر جاوید، ٢١٢ ) ٣١ - تنقیص کا، تحقیر کا "ایشیا کی شاعری کے متعلق کسی قدر برے پہلو لیے ہوئے اظہار خیال ہو رہا تھا"۔      ( ١٩٣٢ء، نثر ریاض، ریاض خیر آبادی، ٧٠ ) ٣٢ - جس کی طرف سے طبیعت میں کھنچاؤ سا تکدر پیدا ہو جائے یا میل آ جائے، نامطبوع۔ "آپ انہیں بلاتے تھے، بٹھاتے تھے، میں ان سے کیوں برا ہوتا"۔      ( ١٩٠٠ء، شریف زادہ، ١٥٢ ) ٣ - بری طرح، ہاتھ دھو کر۔ "یہ شخص ہمارے دین آبائی کے برا پیچھے پڑا ہے"۔      ( ١٩٠٧ء، امہات الامہ، ١٩ )

جنس: مذکر