برائی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - برا کا اسم کیفیت؛ بدی، گناہ، برا عمل، عمل بد۔ 'صدیوں کی برائیاں آسانی سے نہیں جا سکتیں"      ( ١٩٢٨ء، حیرت، مضامین، ٢٨٩ ) ٢ - برا کہنے کا عمل۔  عدد کی برائی برائی نہیں بھلا کہنا میرا برا ہو گیا      ( ١٩٠١ء، راقم، ک، ٢٠ )

اشتقاق

ہندی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'برا' کے آخر پر 'ا' ہونے کی وجہ سے 'ہمزہ زائد' لگا کر'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگنے سے 'برائی' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٠٩ء میں 'قطب مشتری' میں متعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - برا کا اسم کیفیت؛ بدی، گناہ، برا عمل، عمل بد۔ 'صدیوں کی برائیاں آسانی سے نہیں جا سکتیں"      ( ١٩٢٨ء، حیرت، مضامین، ٢٨٩ )

اصل لفظ: بُرا
جنس: مؤنث