برابری

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - برابر سے اسم کیفیت؛ ہمچشمی، ہمسری، رقابت۔ "دولت و ثروت کے لحاظ سے دلی کی برابری نہ کر سکے۔"    ( ١٩٢٤ء، وداع خاتون، ٥ ) ٢ - مقابلہ، سامنا۔  کہاں ہے یہ آئینے کی صورت کرے گا تیری برابری کیا ملانے نہ منہ وہ تیرے چہرے سے ہاتھ کنگن کو آرسی کیا    ( ١٩٢٥ء، دیوان شوق قدوائی، ٤٨ ) ٣ - حرص، رہس۔  چھاے دکھا کے شوخ دل آرا کو اپنے بھی کرنے لگا برابری اب دل سے آئنہ      ( ١٩٧٠ء، دیوان مہر، الماس درخشاں، ١٨٤ ) ٤ - تکرار، بحث (گستاخی، بے ادبی کے ساتھ)۔  بغل میں غیر ہے بڑھکر نہ گفتگو کرنا کہیں نہ آپ کی میری برابری ہو جائے      ( ١٨٧٢ء، دیوان عاشق، ٢١٨ ) ٥ - مطابقت، موافقت۔ (نوراللغات، 605:1) ٦ - ہمواری، چورسائی۔ (فرہنگ آصفیہ، 380:1) ٧ - مساوات، عدل، یکساں برتاؤ۔ "کئی کئی بی بیوں میں (پوری پوری) برابری کر سکو تو بالکل ایک ہی طرف مت جھکو۔"      ( ترجمۂ قرآن، نذیر، ١٥٦ ) ١ - برابر سے منسوب، برابر کا۔ "مساوی القوت ہونے کا رشتہ تمام سیٹوں کے گروہ میں ایک برابری رشتہ ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، نظریہ سیٹ، ٨٣ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'برابر' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت یا نسبت ملنے سے 'برابری' بنا۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - برابر سے اسم کیفیت؛ ہمچشمی، ہمسری، رقابت۔ "دولت و ثروت کے لحاظ سے دلی کی برابری نہ کر سکے۔"    ( ١٩٢٤ء، وداع خاتون، ٥ ) ٧ - مساوات، عدل، یکساں برتاؤ۔ "کئی کئی بی بیوں میں (پوری پوری) برابری کر سکو تو بالکل ایک ہی طرف مت جھکو۔"      ( ترجمۂ قرآن، نذیر، ١٥٦ ) ١ - برابر سے منسوب، برابر کا۔ "مساوی القوت ہونے کا رشتہ تمام سیٹوں کے گروہ میں ایک برابری رشتہ ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، نظریہ سیٹ، ٨٣ )

اصل لفظ: بَرابَر
جنس: مؤنث