برتنا

قسم کلام: فعل متعدی

معنی

١ - استعمال کرنا، عمل میں لانا۔ 'بر جمو ہن بھی احتیاط برتنے لگا۔"      ( ١٩٥٤ء، شاید کہ بہار آئی، ٣٠ ) ٢ - برتاو سے تجربہ کرنا۔ 'تم بھی ماشاء اللہ آج کی نئی دلھن تو نہیں چھتیس برس کی بیاہی اس سسرال کو برت رہی ہو۔"      ( ١٩١٠ء، لڑکیوں کی انشا، ٥٠ ) ٣ - نباہنا، نباہ کرنا، بھگتنا۔ 'آج تم باپ کے کہنے پر اتنا بگڑ گئیں کل تم کو پرائی ماں برتنی ہے۔"      ( ١٩٣٦ء، راشدالخیری، حیات صالحہ، ١٧ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'ورتنین' سے ماخوذ 'برت' کے ساتھ اردو لاحقۂ مصدر 'نا' لگانے سے 'برتنا' بنا۔ اردو میں بطور مصدر مستعمل ہے۔ ١٦٦٥ء میں 'پھول بن" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - استعمال کرنا، عمل میں لانا۔ 'بر جمو ہن بھی احتیاط برتنے لگا۔"      ( ١٩٥٤ء، شاید کہ بہار آئی، ٣٠ ) ٢ - برتاو سے تجربہ کرنا۔ 'تم بھی ماشاء اللہ آج کی نئی دلھن تو نہیں چھتیس برس کی بیاہی اس سسرال کو برت رہی ہو۔"      ( ١٩١٠ء، لڑکیوں کی انشا، ٥٠ ) ٣ - نباہنا، نباہ کرنا، بھگتنا۔ 'آج تم باپ کے کہنے پر اتنا بگڑ گئیں کل تم کو پرائی ماں برتنی ہے۔"      ( ١٩٣٦ء، راشدالخیری، حیات صالحہ، ١٧ )

اصل لفظ: ورتنین