برجستہ

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - بر محل، موزوں، مناسب، ٹھیک، مقتضائے حال کے مطابق، وہ بات جس میں آمد ہو۔ "سب سوالوں کے صحیح اور برجستہ جواب دیے۔"      ( ١٩٢٦ء، مضامین شرر، ٦٣:٣ ) ١ - فی البدیہہ، فوراً، بلا تامل۔ "اکثر صحبتوں میں ان کا اشعار وہ ضرب المثل کے طور پر برجستہ پڑھتا تھا۔"      ( ١٩١٤ء، مقالات شبلی، ٢١:٥ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ سابقہ 'بر' کے ساتھ فارسی مصدر 'جشن' کا صیغہ حالیہ تمام 'جستہ' ملنے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٠٧ء کو "کلیا ولی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بر محل، موزوں، مناسب، ٹھیک، مقتضائے حال کے مطابق، وہ بات جس میں آمد ہو۔ "سب سوالوں کے صحیح اور برجستہ جواب دیے۔"      ( ١٩٢٦ء، مضامین شرر، ٦٣:٣ ) ١ - فی البدیہہ، فوراً، بلا تامل۔ "اکثر صحبتوں میں ان کا اشعار وہ ضرب المثل کے طور پر برجستہ پڑھتا تھا۔"      ( ١٩١٤ء، مقالات شبلی، ٢١:٥ )