بردبار

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - (تکلیف وغیرہ کا( بوجھ اٹھانے والا، برداشت کرنے والا، حلیم، مستعمل۔ "ان کو ایک برد بار لڑکے (اسماعیل) کے پیدا ہونے کی خبر دی۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١٦٠:١ ) ٢ - متین، سنجیدہ، بھاری بھرکم، جو جلد باز نہ ہو اور سوچ سمجھ کر ٹھوس کام کرے۔ "نہایت حلیم الطبع برد بار اور فہمیدہ تھے۔"      ( ١٩٣٩ء، تذکرۃ کاملان رام پور، ١٥٧ ) ٣ - چشم پوشی کرنے والا۔  غفور رحیم اور پروردگار تو آگاہ ہر چیز سے برد بار      ( ١٩٣٢ء، بے نظیر شاہ، کلام بے نظیر، ٢٩٢ )

اشتقاق

فارسی زبان کے مصدر 'بردن' کا حاصل مصدر 'برد' بطور سابقہ کے بعد فارسی اسم 'بار' لگنے سے مرکب 'بردبار' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨١٠ء کو"کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (تکلیف وغیرہ کا( بوجھ اٹھانے والا، برداشت کرنے والا، حلیم، مستعمل۔ "ان کو ایک برد بار لڑکے (اسماعیل) کے پیدا ہونے کی خبر دی۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١٦٠:١ ) ٢ - متین، سنجیدہ، بھاری بھرکم، جو جلد باز نہ ہو اور سوچ سمجھ کر ٹھوس کام کرے۔ "نہایت حلیم الطبع برد بار اور فہمیدہ تھے۔"      ( ١٩٣٩ء، تذکرۃ کاملان رام پور، ١٥٧ )