بردباری

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - بوجھ اٹھانا، برداشت کرنا، سنجیدگی۔  اٹھے نہ ظلم تو چلا پڑے ہیں اے شوق آپ بڑا گھمنڈ تھا حضرت کو بردباری کا      ( ١٩٢٥ء، دیوان شوق قدوائی، ٤٨ )

اشتقاق

فارسی زبان کے مصدر 'بردن' کے حاصل مصدر 'برد' کے بعد فارسی اسم 'بار' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت لگانے سے 'بردباری' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨١٠ء کو"کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مؤنث