برطرف
معنی
١ - برخاست، موقوف (ملازمت وغیرہ سے)۔ "موجودہ کارکن صاحب کو برطرف کرانا ہے۔" ( ١٩٤٣ء، حیات شبلی، ٦٦٤ ) ٢ - دور، علحدہ، زائل۔ دماغ اور دل میں پھری ہر طرف نہ تشویش ہوئی لیکن برطرف ( ١٩٣٢ء، بے نظیر، کلام بے نظیر، ٢٥٢ ) ١ - بالائے طاق، نظر انداز، درکنار، ذکر نہ کیجیے، نام نہ لو، کیا ذکر ہے۔ "حکیم سوزان کے اعلان پر حیرت و استعجاب تر برطرف اس غریب پر چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔" ( ١٩٣٣ء، اخوان الشیاطین، ١٤٣ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'بر' کے ساتھ فارسی اسم 'طرف' ملنے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت اور متعلق فعل استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - برخاست، موقوف (ملازمت وغیرہ سے)۔ "موجودہ کارکن صاحب کو برطرف کرانا ہے۔" ( ١٩٤٣ء، حیات شبلی، ٦٦٤ ) ١ - بالائے طاق، نظر انداز، درکنار، ذکر نہ کیجیے، نام نہ لو، کیا ذکر ہے۔ "حکیم سوزان کے اعلان پر حیرت و استعجاب تر برطرف اس غریب پر چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔" ( ١٩٣٣ء، اخوان الشیاطین، ١٤٣ )