برطرفی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - برخاستگی، برطرفی۔ "اس لیے جمع کیا کہ وہ مولانا شبلی کی برطرفی کا تماشا دیکھیں۔"      ( ١٩٢٣ء، حیات شبلی، ٦٤٢ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'بر' کے بعد فارسی اسم 'طرف' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت ملنے سے 'برطرفی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٨٥ء کو "کلیات حسرت جعفر علی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - برخاستگی، برطرفی۔ "اس لیے جمع کیا کہ وہ مولانا شبلی کی برطرفی کا تماشا دیکھیں۔"      ( ١٩٢٣ء، حیات شبلی، ٦٤٢ )

جنس: مؤنث