برق
معنی
١ - تیز، پھرتیلا، شوخ، چالاک۔ 'مہاراجہ الور - اپنے ہندو علوم کے علاوہ اردو فارسی میں بھی برق اور انگریزی میں بڑے خوش تقریر۔" ( ١٩٥٦ء، محمد علی، ٢٠:٢ ) ١ - وہ شعلہ نما چمکیلی لہر جو بادلوں کی رگڑ سے پیدا ہوتی ہے، بجلی، صاعقہ۔ اہل دانش پر ہوے اسرار فطرت منکشف تابع انساں ہوئے برق و دخاں آب و ہوا ( ١٩٣٨ء، نغمۂ فردوس، ١١٦:٢ ) ٢ - چمک دمک۔ اللہ رہے برق و شرق تری خاک راہ دوست ذرے بھی اپنی اپنی جگہ آفتاب ہیں ( ١٩٢٧ء، شاد، بادۂ عرفاں، ١١٧ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کا مصدر ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم اور گاہے بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٦١١ء میں "قلی قطب شاہ" کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - تیز، پھرتیلا، شوخ، چالاک۔ 'مہاراجہ الور - اپنے ہندو علوم کے علاوہ اردو فارسی میں بھی برق اور انگریزی میں بڑے خوش تقریر۔" ( ١٩٥٦ء، محمد علی، ٢٠:٢ )