برقع

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - نقاب، پردہ۔ 'آہ اس قوم پر جو لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے مکر و پندار کے کالے سوت سے بنے ہوئے تقدس کے برقع کو اپنے منہ پر ڈالے۔"      ( ١٩٠١ء، حیات جاوید، ٢٠٣ ) ٢ - ایک خاص وضع کا سلا ہوا لباس جسے پردہ نشیں عورتیں گھر سے باہر نکلتے وقت اوڑھتی ہیں۔ 'وہ بھی برقع اوڑھ کے ساتھ ہو گئی۔"      ( ١٩٢٤ء، اختری بیگم، ٢١٤ ) ٣ - [ مجازا ]  لباس، روپ، بھیس، چولا۔ 'وہ شجاعت جو یورپ میں زن مریدی کے برقع میں جلوہ افروز ہے ان میں تار عنکبوت سے زیادہ نہ تھی۔"      ( ١٩١٥ء، سجاد حسین، کایا پلٹ، ٣٣ )

اشتقاق

اصلاً عربی زبان کا لفظ ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٥٩١ء میں 'رسالۂ وجودیہ' میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - نقاب، پردہ۔ 'آہ اس قوم پر جو لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے مکر و پندار کے کالے سوت سے بنے ہوئے تقدس کے برقع کو اپنے منہ پر ڈالے۔"      ( ١٩٠١ء، حیات جاوید، ٢٠٣ ) ٢ - ایک خاص وضع کا سلا ہوا لباس جسے پردہ نشیں عورتیں گھر سے باہر نکلتے وقت اوڑھتی ہیں۔ 'وہ بھی برقع اوڑھ کے ساتھ ہو گئی۔"      ( ١٩٢٤ء، اختری بیگم، ٢١٤ ) ٣ - [ مجازا ]  لباس، روپ، بھیس، چولا۔ 'وہ شجاعت جو یورپ میں زن مریدی کے برقع میں جلوہ افروز ہے ان میں تار عنکبوت سے زیادہ نہ تھی۔"      ( ١٩١٥ء، سجاد حسین، کایا پلٹ، ٣٣ )

اصل لفظ: برق
جنس: مذکر