برچھی
قسم کلام: اسم آلہ
معنی
١ - چھوٹا نیزہ جس کا پھل چوڑا ہوتا ہے، نیزہ۔ برچھی جگر یہ کھا کے جو تڑپے جواں پسر یوسف جمال نور نظر پارۂ جگر ( ١٩٢٦ء، مراثی شاد عظیم آبادی، ٢٩:١ )
اشتقاق
سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'برچھا' کا 'الف' حذف کر کے 'ی' بطور لاحقہ تصغیر ملنے سے 'برچھی' بنا۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٤٧ء کو "فرح البیان (مقالات شیرانی)" میں مستعمل ملتا ہے۔
جنس: مؤنث