برکھا
معنی
١ - برسات "آج کل برکھا میں مجھے جوڑی بخار آتا ہے۔" ( ١٩٠١ء، سیتا، ١٠٣:١ ) ٢ - بوچھار، مسلسل اور متواتر کوئی چیز کسی پر پھینکنے کی صورت حال۔ "لڑائی کے میدان میں گولی، گولا اور تیر کی برکھا ہوتی ہے۔" ( ١٩١٣ء، چھلاوا، ٢٢ )
اشتقاق
سنسکرت زبان کے اسم 'ورشا' سے ماخوذ ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٥٦ء کو "فوائد الصبیان" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - برسات "آج کل برکھا میں مجھے جوڑی بخار آتا ہے۔" ( ١٩٠١ء، سیتا، ١٠٣:١ ) ٢ - بوچھار، مسلسل اور متواتر کوئی چیز کسی پر پھینکنے کی صورت حال۔ "لڑائی کے میدان میں گولی، گولا اور تیر کی برکھا ہوتی ہے۔" ( ١٩١٣ء، چھلاوا، ٢٢ )