برگ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - پتا، پتی۔  ہے برگ خزاں دیدہ میں روداد بہاراں تو ہوش سے دیکھے تو یہ دیوانہ بنا دے      ( ١٩٣٢ء، نقوش مانی، ١٧١ ) ٢ - پنکھڑی (گل کے ساتھ)۔  شعر کیا ہے نیم بیداری میں بہنا موج کا برگ گل پر نیند میں شبنم کے گرنے کی صدا      ( ١٩٣٣ء، سیف و سبو، ٥٨ ) ٣ - سامان، زاد سفر۔  جاتے ہیں کشاں کشاں سوے مرگ پاس ان کے نہ ساز ہے نہ کچھ برگ      ( ١٩٢٧ء، تنظیم الحیات، ١٦٩ ) ٤ - سیپ کے دو ورقوں میں سے ایک، صدف پارہ۔ 'ٹریڈ کنا ایک دو برگی صدف ہے جس کا ہر نصف یا برگ - چوڑا ہوا کرتا ہے۔"      ( ١٩١٦ء، طبقات الارض، ٦٨ ) ٥ - نغمہ، آہنگ، سر؛ ایک ساز کا نام۔  بڈھا یا تہیں برگ دھرپت کی پال نہالاں خیالوں کے تجھ تی نہال      ( ١٦٥٧ء، گلشن عشق، نصرتی، ٢٧ )

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت میں ہی بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٤٩ء میں 'خاورنامہ' میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٤ - سیپ کے دو ورقوں میں سے ایک، صدف پارہ۔ 'ٹریڈ کنا ایک دو برگی صدف ہے جس کا ہر نصف یا برگ - چوڑا ہوا کرتا ہے۔"      ( ١٩١٦ء، طبقات الارض، ٦٨ )

جنس: مذکر