برہنہ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - عریاں، ننگا، کھلا۔  خواب میں رات جو زہرا مرے گھر آئی تھیں خاک چہرے پہ ملے برہنہ سر آئی تھیں      ( ١٩٣٩ء، مراثی نسیم، ٤٥٣:٢ ) ٢ - [ مجازا ]  وہ خالی زمین جس میں درخت وغیرہ کچھ نہ ہو۔ 'برہنہ قطعات جن میں نو پیدائش قطعاً نہ ہوئی ہو ان میں اسی عمر کے پودے نصب کیے جائیں۔"      ( ١٩٠٦ء، تربیت جنگلات، ١١٧ )

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اور بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی مستعمل ہے۔ ١٦٢٨ء میں 'شرح تمہیدات ہمدانی' میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - [ مجازا ]  وہ خالی زمین جس میں درخت وغیرہ کچھ نہ ہو۔ 'برہنہ قطعات جن میں نو پیدائش قطعاً نہ ہوئی ہو ان میں اسی عمر کے پودے نصب کیے جائیں۔"      ( ١٩٠٦ء، تربیت جنگلات، ١١٧ )