بری

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - آزاد، چھوٹا ہوا، نجات یافتہ۔  غلط ہے یہ احساس وارستگی کا کہ تجھ سے بھی خود کو بری چاہتا ہوں      ( ١٩٤٧ء، نواے دل، ١٧٧ ) ٢ - پاک، بالاتر (کسی بات سے)۔  بری ہے عیب سے کب آرزو کلام ترا تمام در نہیں ہوتے خوش آب پانی میں      ( ١٩٥١ء، آرزو، صحیفۂ الہام، ١٨ ) ٣ - مستثنٰی، خارج، سبکدوش۔ 'شہری و قصباتی آدمی اس سے بری رکھے جائیں۔"      ( ١٩٠٧ء، کرزن نامہ، ٢٥ ) ٤ - دست بردار۔ 'اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بری - ہیں۔"      ( ١٨٨٤ء )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد سے مشتق صیغہ اسم مفعول ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٦٧٨ء میں 'غواصی' کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - مستثنٰی، خارج، سبکدوش۔ 'شہری و قصباتی آدمی اس سے بری رکھے جائیں۔"      ( ١٩٠٧ء، کرزن نامہ، ٢٥ ) ٤ - دست بردار۔ 'اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بری - ہیں۔"      ( ١٨٨٤ء )

اصل لفظ: برء