بس
معنی
١ - کافی، بقدر، کفایت۔ اکملت لکم دینکم اسلام کو بس ہے باقی ہے اگر کچھ تو وہ دنیا کی ہوس ہے ( ١٩٢١ء، اکبر، گاندھی نامہ، ٩ ) ٢ - بہت، بکثرت، بہت زیادہ۔ "بستی اجڑنا تو سہل ہے لیکن بسنا بس دشوار۔" ( ١٩٤٠ء، یہ دلی ہے، ٨ ) ٣ - ختم، تمام۔ "اسی پر بس نہیں سارے جہاں کے غلیظ اور میلے کچیلے مقامات میں مکھی کا گزر ہے۔" ( ١٩١١ء، سی پارۂ دل، ٦٠:١ ) ١ - فقط، محض، صرف۔ "جناب شیخ عبداللہ مازند رانی جناب اخوند کےساتھی ہیں، اور بس۔" ( ١٩١٢ء، روز نامچۂ سیاحت، ٦١ ) ٢ - چپ (رہو) خاموش (ہو جاؤ)، ختم کرو، ٹھہرو، اور نہیں، اب نہیں۔ سو بار دے کے جام و خم ممنوں ساقی نے کیا اس کا تقاضا تھا کہ پی میری گزارش تھی کہ بس ( ١٩٣٢ء، اعجاز نوح، ٨٥ ) ٣ - الحاصل، انجام کار، القصہ، الغرض، غرضکہ۔ تلوار بھی ہے وہ بھی ہیں میں بھی ہوں قضا بھی قسمت میں جو ہونا ہے وہ ہو جائے گا بس آج ( ١٩٤٧ء، شاد، میخانہ الہام، ١٢٢ ) ٤ - فوراً، اسی وقت، بغیر تاخیر، بلا تامل۔ گھوڑے سے بس ملا دیا گھوڑا بصد جلال اتنے بڑھے کہ لڑ گئی اس کے سپر سے ڈھال ( ١٨٧٢ء، انیس، مراثی، ١٠٤:٢ ) ٥ - خبردار، سنا نہیں، سنو، دیکھو، سن رکھو۔ ہاتھ میں نے جو پڑھایا تو کہا بس بہت پاؤں نہ پھیلائیے گا ( ١٩٠٠ء، امیر (نوراللغات)، ٦٣٢:١ ) ٦ - سب، تمام، کل۔ جتنی قومیں ہیں ہنر ہی سے ہیں وہ مالا مال جتنے نوکر ہیں وہ چھوٹے کہ ہوئے بس کنگال ( ١٨٩٦ء، تجلیات عشق، اکبر، ٣٨٩ ) ٧ - یکایک، اچانک۔ یہ بیخود ہے کہ بس اٹھ کھڑے ہوئے گھر سے نکل کے جائیں گے گھر سے کہاں نہیں معلوم ( ١٨٨٦ء، دیوان سخن، ١٣١ ) ٨ - اب بس خدا حافظ چلانا کامگار زندگی ہو مبارک آپ کو عیش بہار زندگی ( ١٩٣٢ء، نقوش مانی، ١٢ ) ٩ - مصمم ارادے کے ساتھ، اٹل ہو کر۔ اب کون روکے شیر بڑھے جب تو بس بڑھے مقتل میں بیسں ہو کے لڑے جو کہ دس بڑھے ( ١٨٧٢ء، انیس، مراثی، ١٨٥:١ ) ١٠ - کیا کہوں، کیا بیان کروں۔ نام عیسٰی کا کوئی لے کے نکل جائے دم تنگ جینے سے ہے ایسا دل بیمار کہ بس ( ١٨٧٧ء، کلیات قلق، ٧١ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'بسیار' کی تخفیف ہے۔ اردو میں بطور صفت اور متعلق فعل استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - بہت، بکثرت، بہت زیادہ۔ "بستی اجڑنا تو سہل ہے لیکن بسنا بس دشوار۔" ( ١٩٤٠ء، یہ دلی ہے، ٨ ) ٣ - ختم، تمام۔ "اسی پر بس نہیں سارے جہاں کے غلیظ اور میلے کچیلے مقامات میں مکھی کا گزر ہے۔" ( ١٩١١ء، سی پارۂ دل، ٦٠:١ ) ١ - فقط، محض، صرف۔ "جناب شیخ عبداللہ مازند رانی جناب اخوند کےساتھی ہیں، اور بس۔" ( ١٩١٢ء، روز نامچۂ سیاحت، ٦١ )