بسیرا

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - شب باشی (انسانوں حیوانوں یا پرندوں کی)۔  لو چلو باغ سے اے زمزمہ سنجان بہار کٹ گیا نخل وہی جس پہ بسیرا ہوتا      ( ١٩٢٧ء، شاد، میخانۂ الہام، ٩٧ ) ٢ - شام کے وقت اپنے اپنے گھونسلے میں شب باشی کے لیے جانے سے کچھ پہلے پرندوں کے اکٹھا بیٹھنے اورچہچہانے کا عمل۔  تھے نرم چہچہے چڑیوں کے وہ بسیرے کے سلا رہی تھیں وہ دنیا کو لوریاں دے کے      ( ١٩٣٦ء، جگ بیتی، ٣ ) ٣ - پڑاؤ، عارضی قیام۔  گھر یہ تیرا سدا نہ میرا ہے رات دو رات کا بسیرا ہے      ( ١٩٣٨ء، سریلی بانسری، ٢١٩ ) ٤ - بسنے کا مقام، جائے بود و باش، جائے قیام، آشیاں، گھونسلا۔  شہروں کے ہر فتنہ و شر سے میرا بسیرا اونچا ہے چھینٹوں سے اس پاپ نگر کے دامن اپنا بچاتا ہوں      ( ١٩٣٨ء، نغمۂ فردوس، ١٩٣:٢ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'واس' کے ساتھ لاحقہ 'کار' لگنے سے 'واسکار' بنا اور اس سے ماخوذ اردو زبان میں 'بسیرا' مستعمل ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨١٠ء میں "اخوان الصفا" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: واس
جنس: مذکر