بشاش

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - خوش، مسرور۔ 'آج صبح سے طبیعت غیر معمولی طور پرب شاش ہے۔"      ( ١٩٣٨ء، اقبال، مکاتیب، ١٢١:٢ ) ٢ - تر و تازہ، شگفتہ۔ 'منغض اور مکدر چہرے بشاش اور شگفتہ ہو جاتے تھے۔"      ( ١٩٣٥ء، چند ہمعصر، ١٢٢ ) ٣ - ہنس مکھ، خندہ رو۔  غمناک ازل وہ تھا مانی نے مری صورت بشاش بھی اگر کھینچی دلگیر نظر آئی      ( ١٩١١ء، تسلیم، دفتر خیال، ١٤٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم تفضیل کا صیغہ ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٨٤٩ء میں 'کلیات ظفر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خوش، مسرور۔ 'آج صبح سے طبیعت غیر معمولی طور پرب شاش ہے۔"      ( ١٩٣٨ء، اقبال، مکاتیب، ١٢١:٢ ) ٢ - تر و تازہ، شگفتہ۔ 'منغض اور مکدر چہرے بشاش اور شگفتہ ہو جاتے تھے۔"      ( ١٩٣٥ء، چند ہمعصر، ١٢٢ )

اصل لفظ: بشش