بشیر
معنی
١ - بشارت دینے والا، خوش خبری سنانے والا۔ 'قرآن مجید خود اس کی شہادت دیتا ہے کہ ہم نے ہر گروہ میں ایک بشیر اور نذیر بھیجا۔" ( ١٩٢٨ء، حیرت، مضامین، ٢٤٠ ) ١ - پیغمبر اسلام کا لقب (عموماً نذیر کے ساتھ مستعمل)۔ امیر و مساکیں کے سچے ظہیر خدا کے وہ پیارے بشیر و نذیر ( ١٩٣٢ء، بے نظیر شاہ، کلام بے نظیر، ٣٢٤ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق صیغۂ اسم فاعل ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت اور گاہے بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٣٩ء میں "کلیات سراج" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بشارت دینے والا، خوش خبری سنانے والا۔ 'قرآن مجید خود اس کی شہادت دیتا ہے کہ ہم نے ہر گروہ میں ایک بشیر اور نذیر بھیجا۔" ( ١٩٢٨ء، حیرت، مضامین، ٢٤٠ )