بصیر

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بصارت رکھنے والا، نابینا۔  وہ سمجھے بیٹھے ہیں نقطے کو اک محیط غم کہ سنگ و خشت کے عالم کے وہ نہیں ہیں بصیر      ( ١٩٥٦ء، دو نیم، ٣١ ) ٢ - بصیرت رکھنے والا، دانا، باخبر۔ "ایک بصیر انسان یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور وہ جاتا ہے۔"      ( ١٩٦٣ء، کشکول، ٢١٥ ) ١ - خدائے تعالٰی کا ایک صفاتی نام۔  یا لطیف و خبیر یا حافظ یا سمیع و بصیر یا حافظ      ( ١٩٠١ء، الف لیلٰہ، سرشار، ١٠٤٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور صفت اور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - بصیرت رکھنے والا، دانا، باخبر۔ "ایک بصیر انسان یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور وہ جاتا ہے۔"      ( ١٩٦٣ء، کشکول، ٢١٥ )

اصل لفظ: بصر