بضاعت
معنی
١ - سرمایہ، پونجی۔ عیاں پاس کچھ بھی بضاعت نہیں ہے کسی وقت دُنیا میں راحت نہیں ہے ( ١٩٠٩ء، مظہر المعرفت، ١٤١ ) ٢ - اسباب تجارت، راس المال۔ "تجارت پر بھی ہاتھ نہ ڈالے کہ ہروقت بضاعت کی کرکری کا خواستگار رہنا پڑے۔" ( ١٩٠٤ء، ترجمہ مقدمۂ ابن خلدون، ١٩٥:٢ ) ٣ - کل کائنات، سارا مادی سہارا۔ جمع کی تھی جس قدر دل نے بضاعت لے گئے لوٹ کر زنگی بچے سب مال و دولت لے گئے ( ١٨٧٠ء، دیوان اسیر، ٤٧٤:٣ ) ٤ - بساط، حیثیت، مقدرت۔ "موافق اپنی بضاعت کے جہیز اور اسباب دیکر بادشاہ کی خدمت میں روانہ کیا۔" ( ١٨٥١ء، بہار دانش، ولایت، ١٧٧ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٨٨ء کو "قصۂ کفن چور" میں ضعیفی کے ہاں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - اسباب تجارت، راس المال۔ "تجارت پر بھی ہاتھ نہ ڈالے کہ ہروقت بضاعت کی کرکری کا خواستگار رہنا پڑے۔" ( ١٩٠٤ء، ترجمہ مقدمۂ ابن خلدون، ١٩٥:٢ ) ٤ - بساط، حیثیت، مقدرت۔ "موافق اپنی بضاعت کے جہیز اور اسباب دیکر بادشاہ کی خدمت میں روانہ کیا۔" ( ١٨٥١ء، بہار دانش، ولایت، ١٧٧ )