بعض

قسم کلام: صفت عددی

معنی

١ - چند، کچھ۔ 'بعض مقامات میں جہاں زیادہ اجمال ہوتا تھا - لوگ آنحضرت صلعم سے دریافت کر لیا کرتے تھے۔"      ( ١٩٠٤ء، مقالات شبلی، ٢٦:١ ) ٢ - جزو، تھوڑا سا یا ایک حصہ (کسی چیز کا)۔ 'ابن عمر سے صحیح ہوا ہے کہ اکتفا کیا انھوں نے ساتھ مسح بعض سر کے۔"      ( ١٨٦٨ء، نورالہدایہ، ٢٠:١ ) ٣ - دوسرا، دیگر، اور کوئی۔ 'وہ طول و عرض میں اتنا ہے کہ بعض شہر اتنا وسیع نہیں ہوتا۔"      ( ١٨٤٨ء، تاریخ ممالک چین، ٢٩ )

اشتقاق

اصلاً عربی زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٥٨٢ء میں 'کلمۃ الحقائق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - چند، کچھ۔ 'بعض مقامات میں جہاں زیادہ اجمال ہوتا تھا - لوگ آنحضرت صلعم سے دریافت کر لیا کرتے تھے۔"      ( ١٩٠٤ء، مقالات شبلی، ٢٦:١ ) ٢ - جزو، تھوڑا سا یا ایک حصہ (کسی چیز کا)۔ 'ابن عمر سے صحیح ہوا ہے کہ اکتفا کیا انھوں نے ساتھ مسح بعض سر کے۔"      ( ١٨٦٨ء، نورالہدایہ، ٢٠:١ ) ٣ - دوسرا، دیگر، اور کوئی۔ 'وہ طول و عرض میں اتنا ہے کہ بعض شہر اتنا وسیع نہیں ہوتا۔"      ( ١٨٤٨ء، تاریخ ممالک چین، ٢٩ )

اصل لفظ: بعض