بقایا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بچا کھچا۔ 'دراصل آج کل کے یونی ٹیرین عیسائی انہیں کے بقایا ہیں۔"      ( ١٩٤٨ء، تبرکات آزاد، ٣٣ ) ٢ - واجب الادا رقم جو باقی رہ گئی ہو۔ 'مالگزاری میں یہ اضافہ، سابقہ بقایوں کی وصولی اور مشرقی پاکستان میں حصول حقوق لگان کی وجہ سے ہوا ہے۔"      ( ١٩٦٠ء، دوسرا پنج سالہ منصوبہ، ١١٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'بقیہ' کی اردو جمع ہے اور اردو میں بطور اسم صفت بھی مستعمل ہے۔ ١٩٤٨ء میں 'تبرکات آزاد' میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بچا کھچا۔ 'دراصل آج کل کے یونی ٹیرین عیسائی انہیں کے بقایا ہیں۔"      ( ١٩٤٨ء، تبرکات آزاد، ٣٣ ) ٢ - واجب الادا رقم جو باقی رہ گئی ہو۔ 'مالگزاری میں یہ اضافہ، سابقہ بقایوں کی وصولی اور مشرقی پاکستان میں حصول حقوق لگان کی وجہ سے ہوا ہے۔"      ( ١٩٦٠ء، دوسرا پنج سالہ منصوبہ، ١١٢ )

اصل لفظ: بقی
جنس: مذکر