بقرہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - گائے۔  کیا مجھ کو اللہ نے محترم نہیں بقرۂ قوم موسٰی سے کم      ( ١٨٤٠ء، معارج الفضائل، ٦٣ ) ٢ - سورۂ فاتحہ کے بعد کلام پاک کی صورت جو مدینہ میں نازل ہوئی۔ 'سورہ بقرہ مدنی ہے دو سو ستیاسی آیت کا اور یہ پہلی سورت ہے جو مدینے میں - نازل ہوئی۔"      ( ١٨٦٠ء، فیض الکریم تفسیر قرآن العظیم، ٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں مستعمل اسم 'بقر' کے ساتھ عربی قواعد کے تحت 'ہ' بطور لاحقۂ تانیث لگنے سے 'بقرہ' بنا اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور اصلی معنی میں ہی اردو میں مستعمل ہے۔ ١٨٤٠ء میں 'معارج الفضائل" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - سورۂ فاتحہ کے بعد کلام پاک کی صورت جو مدینہ میں نازل ہوئی۔ 'سورہ بقرہ مدنی ہے دو سو ستیاسی آیت کا اور یہ پہلی سورت ہے جو مدینے میں - نازل ہوئی۔"      ( ١٨٦٠ء، فیض الکریم تفسیر قرآن العظیم، ٣ )

اصل لفظ: بقر
جنس: مؤنث