بلندی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - اونچائی، ارتفاع۔  بلندی کو نظروں میں تولے ہوئے یہ پریاں اڑیں بال کھولے ہوئے      ( ١٩٣٢ء، بے نظیر شاہ، کلام بے نظیر، ٣٣٣ ) ٢ - اونچی جگہ، اونچی اٹھی ہوئی چیز، مقام رفیع۔ "روایت ہے کہ جب حضرت یعقوب علیہ السلام مصر کے قریب پہنچے اور حضرت یوسف علیہ السلام . استقبال کو آئے، حضرت یعقوب ایک بلندی پر کھڑے تھے۔"      ( ١٨٥٢ء، مولود شریف، ٥ ) ٣ - برتری، فوقیت، سرافرازی، مرتبہ عالی۔  کل قوم ہے پستی کے گڑھے میں تو خوشی کیا ماناکہ بلندی پہ ہیں کچھ قوم کے افراد      ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٨٥ ) ٤ - پر شوری، شوروغل کے ساتھ اٹھنے یا نکلنے کی کیفیت (آواز وغیرہ کے لیے مستعمل)۔ "آواز کی پستی اور بلندی"      ( ١٨٥٦ء، فوائدالصبیان، ١٦٨ )

اشتقاق

فارسی زبان میں اسم صفت 'بلند' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت لگنے سے 'بلندی' بنا اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطورر اسم مستعمل ہے ١٦١١ء میں "قلی قطب شاہ" کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - اونچی جگہ، اونچی اٹھی ہوئی چیز، مقام رفیع۔ "روایت ہے کہ جب حضرت یعقوب علیہ السلام مصر کے قریب پہنچے اور حضرت یوسف علیہ السلام . استقبال کو آئے، حضرت یعقوب ایک بلندی پر کھڑے تھے۔"      ( ١٨٥٢ء، مولود شریف، ٥ ) ٤ - پر شوری، شوروغل کے ساتھ اٹھنے یا نکلنے کی کیفیت (آواز وغیرہ کے لیے مستعمل)۔ "آواز کی پستی اور بلندی"      ( ١٨٥٦ء، فوائدالصبیان، ١٦٨ )

اصل لفظ: بَلَنْد
جنس: مؤنث