بلوا

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - فساد، لڑائی جھگڑا۔  کہیں گانے کی پونچھ پر سر پھٹول کہیں باجا بجنے بجانے پہ بلوا      ( ١٩٣١ء، بہارستان، ظفر علی خاں، ٧٤٩ ) ٢ - ہجوم، ازدحام۔  ایک کا حصہ بھیڑ اور بلوا میرا حصہ دور کا جلوا      ( ١٩٠٧ء، کلیات اکبر، ٢٦٨:١ ) ٣ - شور، غل، غوغا۔  کہاں کا فاتحہ اور کیسا حلوا پٹاخوں نے مچا رکھا ہے بلوا      ( ١٩٢١ء، اکبر، کلیات، ٩٣:٤ ) ٤ - بے چینی، شورش، اضطراب۔  جان و دل پر لشکر آرائی تھی جوش یاس کی مفت اس بلوے میں شبا خون تمنا ہو گیا      ( ١٨٥١ء، مومن، کلیات، ٣٦ ) ٥ - بغاوت، عذر، سرکشی۔ "افسروں نے بیگم سے کہا کہ سپاہی بلوے پر آمادہ ہیں اور صاف کہتے ہیں کہ ہم نپولین کے مقابلے میں نہ جائیں گے"      ( ١٩٠٧ء، نپولین اعظم، ٨٣:٥ ) ٦ - [ قانون ]  بہت سے آدمیوں کی فساد پر آمادگی اور جھگڑا کرنے کی نیت سے ہجوم میں شرکت۔ (نوراللغات 665:1)

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'بل کوپ' ہے اردو میں اس سے ماخوذ 'بلوا' مستعمل ہے اور بطور اسم کیفیت ہے ١٧١٨ء میں "دیوان آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٥ - بغاوت، عذر، سرکشی۔ "افسروں نے بیگم سے کہا کہ سپاہی بلوے پر آمادہ ہیں اور صاف کہتے ہیں کہ ہم نپولین کے مقابلے میں نہ جائیں گے"      ( ١٩٠٧ء، نپولین اعظم، ٨٣:٥ )

اصل لفظ: بلکوپ
جنس: مذکر