بلوائی
قسم کلام: صفت نسبتی
معنی
١ - دنگا فساد کرنے والا، باغی۔ نکل جائیں گے تکلے کی طرح کسی دن کا بلی بلوائیوں کے ( ١٩٣١ء، بہارستان؛ ظفر علی خاں، ٣٢٥ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ اسم 'بلوا' کے آخر پر 'ا' ہونے کی وجہ سے ہمزہ زائد (اسے ہمزہ اتصال بھی کہتے ہیں) لگا کر 'ی' بطور لاحقہ نبست لگنے سے 'بلوائی' بنا اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے ١٩٠٧ء میں "اجتہاد" میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: بلکوپ
جنس: مذکر