بلوری

قسم کلام: صفت نسبتی ( واحد )

معنی

١ - بلور سے منسوب: بلور سے بنا ہوا، بلور کی طرح صاف شفاف و چمکیلا۔  سہ پہل ہے قلم جوبلوری ہاتھ میں اس کو لے کے دیکھو ابھی      ( ١٩١٦ء، سائنس و فلسفہ، ٦٥ ) ٢ - گھوڑے اور کبوتر کے رنگ کا نام جو سفید براق ہوتا ہے۔ "رنگ کبوتروں کے یہ ہیں . بلوری . پیازی یا ہو وغیرہ"      ( ١٨٧٢ء، رسالہ سالوتر، ٥١:٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'بلور' کے ساتھ بطور لاحقہ نسبت لگنے سے 'بلوری' بنا اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے ١٨١٨ء میں "انشاء" کے ہاں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - گھوڑے اور کبوتر کے رنگ کا نام جو سفید براق ہوتا ہے۔ "رنگ کبوتروں کے یہ ہیں . بلوری . پیازی یا ہو وغیرہ"      ( ١٨٧٢ء، رسالہ سالوتر، ٥١:٢ )

اصل لفظ: بلر