بن

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وہ جگہ جہاں بہت سے خود رو درخت ہوں، جنگل۔  بھیڑیوں کے غول پھرتے تھے بنوں میں چیڑ کے تاکہ جو مل جائے واں آوارۂ دشت بلا      ( ١٩٠٥ء، کلیات نظم حالی، ٢٧:٢ ) ٢ - میدان، بیابان (جہاں کوئی درخت نہ ہوض۔  کوئی مقام نظر آ گیا جو بن کا سا کہا جنون نے یہ ہے مرے وطن کا سا      ( ١٩٢٥ء، شوق قدوائی، دیوان، ٦١ ) ٣ - مرغزار، سبزہ زار، سرسبز علاقہ۔  پھر بہار آگئی گھر میں الجھی ہوئی پھر بڑھی بیخودی دھن لگی دشت کی اف یہ جوش جنوں اف یہ گرمی یہ خوں پھول کھلنے لگے آگ بن میں لگی      ( ١٩٥١ء، آرزو، ساز حیات، ٣٠ ) ٤ - کپاس کا پودا، کپاس۔ 'کپاس کہ اسے بن اور نرما بھی بولتے ہیں۔"      ( ١٨٤٨ء، توصیف زراعات، ٧٧ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'ون' ہے اردو میں اس سے ماخوذ 'بن' مستعمل ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٦٥ء میں 'پھول بن' میں مستعمل ہے۔

مثالیں

٤ - کپاس کا پودا، کپاس۔ 'کپاس کہ اسے بن اور نرما بھی بولتے ہیں۔"      ( ١٨٤٨ء، توصیف زراعات، ٧٧ )

اصل لفظ: ون
جنس: مذکر