بناوٹ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ساخت، وضع قطع، تراش خراش۔ "اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں کی اور زمین کی بناوٹ اور تمہاری بولیوں اور رنگوں کی بوقلمونی ہے۔"      ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٤٦٧:٤ ) ٢ - بنانے سنوارنے کا عمل، مانگ پٹی کرنے اور مسی سرمہ لگانے کی کیفیت۔  دل فریبی نہیں ہوتی ہے بناوٹ سے کبھی دل لبھانے کا اک انداز جدا ہو گا      ( ١٨٣٦ء، ریاض البحر، ٢٢٥ ) ٣ - تصنع، تکلف، دکھاوا، نمائش، ظاہر داری  اصل اللہ سے لگاوٹ ہے ورنہ مذہب میں سب بناوٹ ہے      ( ١٩١٨ء، کلیات اکبر، ٢٩٩:٣ ) ٤ - خلاف بیانی، جھوٹ، مکروفریب، سخن سازی۔ "ان کی کوئی بات بناوٹ ساختگی اور آورد سے خالی نہیں ہوتی۔"      ( ١٩١٤ء، مرقع زبان و بیان دہلی، ٣٢ ) ٥ - صنعت، کاریگری۔ "ہندوستانی دستکاروں کی بنائی ہوئی چیزوں کی . خوبصورتی اور بناوٹ کی بڑی تعریف ہوتی تھی۔"      ( ١٩٥٩ء، گھریلو صنعتیں، ٥٣ ) ٦ - تشکیل۔ "صرف قوم کی رائے، نیابت اور انتخاب سے اس کی بناوٹ ہوتی تھی۔"      ( ١٩٢٢ء، قول فیصل، آزاد، ٩٣ ) ٧ - سدھار، اصلاح، مصالحت کی صورت، یا تدبیر۔  بگڑے تو کسی سے نہ بنے کوئی بناوٹ محشر تھا ملاپ اس کا، قیامت تھی رکاوٹ      ( ١٨٧٥ء، دبیر، دفتر ماتم، ١٦٧:٧ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اردو مصدر 'بننا' سے مشتق حاصل مصدر ہے اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٧٩٨ء میں میر سوز کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ساخت، وضع قطع، تراش خراش۔ "اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں کی اور زمین کی بناوٹ اور تمہاری بولیوں اور رنگوں کی بوقلمونی ہے۔"      ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٤٦٧:٤ ) ٤ - خلاف بیانی، جھوٹ، مکروفریب، سخن سازی۔ "ان کی کوئی بات بناوٹ ساختگی اور آورد سے خالی نہیں ہوتی۔"      ( ١٩١٤ء، مرقع زبان و بیان دہلی، ٣٢ ) ٥ - صنعت، کاریگری۔ "ہندوستانی دستکاروں کی بنائی ہوئی چیزوں کی . خوبصورتی اور بناوٹ کی بڑی تعریف ہوتی تھی۔"      ( ١٩٥٩ء، گھریلو صنعتیں، ٥٣ ) ٦ - تشکیل۔ "صرف قوم کی رائے، نیابت اور انتخاب سے اس کی بناوٹ ہوتی تھی۔"      ( ١٩٢٢ء، قول فیصل، آزاد، ٩٣ )

اصل لفظ: ورٹ
جنس: مؤنث